26 جولائی 2024 - 22:17
کیا نیتن یاہو امریکی حمایت کھو چکا ہے؟ اسے غیر اہم ہونے کی عادت ڈالنا ہوگی۔ فاکس نیوز

جرائم پیشہ یہودی ریاست کا وزیر اعظم ایک بار امریکی کانگریس میں تقریرکرکے سابق جنگی مجرم ونسٹن چرچل کا ریکارڈ توڑ چکا اور امریکی سیاست کا مستقل عنصر بن گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، امریکی چینل فاکس نیوز نے صہیونیوں کے وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے بارے میں کہا: ظاہرا اس بار سب کچھ مختلف ہے اس لئے نہیں کہ نیتن یاہو ایک متنازعہ شخص ہے اور ہزاروں امریکی احتجاجیوں کو واشنگٹن کی سڑکوں پر لایا ہے، بلکہ نیا نکتہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے کہں زیادہ تنہائی سے دوچار ہوچکا ہے۔

امریکی ٹیلی وژن چینل فاکس نیوز کی رپورٹ اور تبصرہ:

نیتن یاہو کی تقریر میں غزہ کی جنگ کے خاتمے کے سلسلے میں کوئی منصوبہ نظر نہیں آیا اور لگتا ہے کہ اس سلسلے میں سفارتکاری پر مبنی تمام تر تر کوششیں ناکام ہوجائيں گی۔ ایوان نمائندگان کی سابق سربراہ نینسی پیلوسی نے نیتن یاہو کی تقریر کو کانگریس میں کسی بیرونی شخصیت کی بدترین تقریر تھی۔

کانگریس میں نیتن یاہو کی تقریر دفاعی تھی، اس نے اپنا پورا وقت اور پوری توانائی غزہ کی دلدل سے نکلنے کا کوئی منصوبہ پیش کرنے کے بجائے، صہیونی ریاست پر ہونے والی تنقیدی دھاروں کا جواب دینے پر صرف کر دی۔

نیتن یاہو نے 7 اکتوبر 2023ع‍ کے دن کے خوف و ہراس کو آب و تاب سے بیان کیا اور کہا "میں غزہ میں حماس کی حکومت اور اس کی جنگی صلاحیت ختم کرنے تک اپنے حملے جاری رکھوں گا اور اپنے تمام قیدیوں کو واپس لاؤنگا!"۔ حالانکہ فلسطین کے یہودی آبادکار کسی صورت میں بھی اس کے دعؤوں پر یقین کرنے کے روادار نہیں ہیں اور اس سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے بچوں کی رہائی کے لئے صرف اور صرف غزہ میں جنگ بندی نافذ کرے۔

ادھر جو بائیڈن بھی نیتن یاہو کے دعوے سننے کے شوقین نہیں ہیں اور جب پوچھا گیا کہ "کیا نیتن یاہو کی کانگریس میں نیتن یاہو کی تقریر مذکورہ سمجھوتے پے دستخطوں کے عمل کو کمزور کرے گی؟" تو ایک اعلی امریکی اہلکار نے کہا: "ہم آپریشن روم میں دوسرے کام میں مصروف تھے، اور نیتن یاہو کی تقریر نہیں سن سکے"۔

فاکس نیوز نے مزید کہا:

"گوکہ شاید نیتن یاہو کانگریس میں تقریر کرکے اپنی خواہش کی تکمیل میں کامیاب ہؤا ہو اور ایوان نمائندگان کے اراکین ـ جن کی اکثریت ریپلکنز کی ہے ـ نے بڑے جذبے کے ساتھ اس کے لئے تالیاں بجائیں لیکن ادھر 70 فیصد اسرائیلی اس کے استعفے کے خواہاں ہیں!"۔

ماضی میں واشنگٹن نیتن یاہو کا حفاظتی صمام (Safety valve) سمجھا جاتا تھا اور وہ ہمیشہ واشنگٹن پر اپنےا طاقتور حامی کے طور پر اعتماد کر سکتا تھا لیکن آج ـ آنجہانی اسرائیلی صدر شمعون پیرز کے مشیر اعلی نمرود نوفیک (Nimrod Novik) کے بقول ـ "اس مسخرے کا دور گذر چکا ہے"۔

فاکس نیوز نے آخر میں زور دے کر کہا ہے: "نیتن یاہو کو 40 سال سے سے عادت ہے کہ وہ امریکہ کے دوروں کے موقع پر تنازعہ کھڑا کرتا ہے اور اب اس کو غیر اہم ہونے کی عادت ڈالنا ہوگی"۔ 

 

https://fa.alalam.ir/news/6909378